< السورة السابقة | فهرس السور | السورة التالية >



حدد حجم خط الآيات
()


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَٰشِيَةِ ۝١

کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ ۝٢

کچھ چہرے اُس روز خوف زدہ ہونگے

عَامِلَةٌۭ نَّاصِبَةٌۭ ۝۳

سخت مشقت کر رہے ہونگے

تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةًۭ ۝٤

تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے

تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍۢ ۝٥

کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا

لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍۢ ۝٦

خار دار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا

لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍۢ ۝۷

جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاعِمَةٌۭ ۝۸

کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں گے

لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۭ ۝۹

اپنی کار گزاری پر خوش ہونگے

فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍۢ ۝١۰

عالی مقام جنت میں ہوں گے

لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةًۭ ۝١١

کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے

فِيهَا عَيْنٌۭ جَارِيَةٌۭ ۝١٢

اُس میں چشمے رواں ہونگے

فِيهَا سُرُرٌۭ مَّرْفُوعَةٌۭ ۝١۳

اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی

وَأَكْوَابٌۭ مَّوْضُوعَةٌۭ ۝١٤

ساغر رکھے ہوئے ہوں گے

وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌۭ ۝١٥

گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی

وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌ ۝١٦

اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ ۝١۷

(یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟

وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ ۝١۸

آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟

وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ ۝١۹

پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟

وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ ۝٢۰

اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟

فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌۭ ۝٢١

اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو

لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ۝٢٢

کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو

إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ ۝٢۳

البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا

فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ ۝٢٤

تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا

إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ ۝٢٥

اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے

ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم ۝٢٦

پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے