< السورة السابقة | فهرس السور | السورة التالية >



حدد حجم خط الآيات
()


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا ۝١

ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم!

وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًۭا ۝٢

بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم!

وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًۭا ۝۳

اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم!

فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًۭا ۝٤

پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم!

فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا ۝٥

پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!

يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ۝٦

جس دن کانپنے والی کانپے گی

تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ۝۷

اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی

قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ ۝۸

(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے

أَبْصَٰرُهَا خَٰشِعَةٌۭ ۝۹

جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی

يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ ۝١۰

کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟

أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا نَّخِرَةًۭ ۝١١

کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟

قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ ۝١٢

کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے

فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ ۝١۳

(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے

فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ۝١٤

کہ (جس کے ﻇاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے

هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ۝١٥

کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟

إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ۝١٦

جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا

ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ۝١۷

(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے

فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ۝١۸

اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ۝١۹

اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے

فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ۝٢۰

پس اسے بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ۝٢١

تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ۝٢٢

پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ۝٢۳

پھر سب کو جمع کرکے پکارا

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ۝٢٤

تم سب کا رب میں ہی ہوں

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ۝٢٥

تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ۝٢٦

بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے

ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ۝٢۷

کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ۝٢۸

اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ۝٢۹

اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا

وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ۝۳۰

اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ۝۳١

اس میں سے پانی اور چاره نکالا

وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ۝۳٢

اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا

مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ۝۳۳

یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں)

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ۝۳٤

پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ۝۳٥

جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ۝۳٦

اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ﻇاہر کی جائے گی

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ۝۳۷

تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی)

وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ۝۳۸

اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی)

فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ۝۳۹

اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ۝٤۰

ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا

فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ۝٤١

تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۝٤٢

لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ۝٤۳

آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ۝٤٤

اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ۝٤٥

آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ۝٤٦

جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں