< السورة السابقة | فهرس السور | السورة التالية >



حدد حجم خط الآيات
()


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ۝١

ان کے چہرۂ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رخِ (انور) موڑ لیا،

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ ۝٢

اس وجہ سے کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا (جس نے آپ کی بات کو ٹوکا)،

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ۝۳

اور آپ کو کیا خبر شاید وہ (آپ کی توجہ سے مزید) پاک ہو جاتا،

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ ۝٤

یا (آپ کی) نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اس کو (اور) فائدہ دیتی،

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ ۝٥

لیکن جو شخص (دین سے) بے پروا ہے،

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ۝٦

تو آپ اس کے (قبولِ اسلام کے) لیے زیادہ اہتمام فرماتے ہیں،

وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ۝۷

حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری (کا بوجھ) نہیں اگرچہ وہ پاکیزگی (ایمان) اختیار نہ بھی کرے،

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ ۝۸

اور وہ جو آپ کے پا س (خود طلبِ خیر کی) کوشش کرتا ہوا آیا،

وَهُوَ يَخْشَىٰ ۝۹

اور وہ (اپنے رب سے) ڈرتا بھی ہے،

فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ۝١۰

تو آپ اُس سے بے توجہی فرما رہے ہیں،

كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌۭ ۝١١

(اے حبیبِ مکرّم!) یوں نہیں بیشک یہ (آیاتِ قرآنی) تو نصیحت ہیں،

فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ ۝١٢

جو شخص چاہے اسے قبول (و اَزبر) کر لے،

فِى صُحُفٍۢ مُّكَرَّمَةٍۢ ۝١۳

(یہ) معزّز و مکرّم اوراق میں (لکھی ہوئی) ہیں،

مَّرْفُوعَةٍۢ مُّطَهَّرَةٍۭ ۝١٤

جو نہایت بلند مرتبہ (اور) پاکیزہ ہیں،

بِأَيْدِى سَفَرَةٍۢ ۝١٥

ایسے سفیروں (اور کاتبوں) کے ہاتھوں سے (آگے پہنچی) ہیں،

كِرَامٍۭ بَرَرَةٍۢ ۝١٦

جو بڑے صاحبانِ کرامت (اور) پیکرانِ طاعت ہیں،

قُتِلَ ٱلْإِنسَٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ ۝١۷

ہلاک ہو (وہ بد بخت منکر) انسان کیسا نا شکرا ہے (جو اتنی عظیم نعمت پا کر بھی اس کی قدر نہیں کرتا)،

مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ۝١۸

اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا فرمایا ہے،

مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ ۝١۹

نطفہ میں سے اس کو پیدا فرمایا، پھر ساتھ ہی اس کا (خواص و جنس کے لحاظ سے) تعین فرما دیا،

ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ ۝٢۰

پھر (تشکیل، ارتقاء اور تکمیل کے بعد بطنِ مادر سے نکلنے کی) راہ اس کے لئے آسان فرما دی،

ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ ۝٢١

پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں (دفن) کر دیا گیا،

ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ ۝٢٢

پھر جب وہ چاہے گا اسے (دوبارہ زندہ کر کے) کھڑا کرے گا،

كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ ۝٢۳

یقیناً اس (نافرمان انسان) نے وہ (حق) پورا نہ کیا جس کا اسے (اللہ نے) حکم دیا تھا،

فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ ۝٢٤

پس انسان کو چاہیے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے (اور غور کرے)،

أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّۭا ۝٢٥

بیشک ہم نے خوب زور سے پانی برسایا،

ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّۭا ۝٢٦

پھر ہم نے زمین کو پھاڑ کر چیر ڈالا،

فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّۭا ۝٢۷

پھر ہم نے اس میں اناج اگایا،

وَعِنَبًۭا وَقَضْبًۭا ۝٢۸

اور انگور اور ترکاری،

وَزَيْتُونًۭا وَنَخْلًۭا ۝٢۹

اور زیتون اور کھجور،

وَحَدَآئِقَ غُلْبًۭا ۝۳۰

اور گھنے گھنے باغات،

وَفَٰكِهَةًۭ وَأَبًّۭا ۝۳١

اور (طرح طرح کے) پھل میوے اور (جانوروں کا) چارہ،

مَّتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ۝۳٢

خود تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لئے متاعِ (زیست)،

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ ۝۳۳

پھر جب کان پھاڑ دینے والی آواز آئے گی،

يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ۝۳٤

اُس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا،

وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ ۝۳٥

اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے (بھی)،

وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ ۝۳٦

اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھی)،

لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ ۝۳۷

اس دن ہر شخص کو ایسی (پریشان کن) حالت لاحق ہوگی جو اسے (ہر دوسرے سے) بے پروا کر دے گی،

وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ مُّسْفِرَةٌۭ ۝۳۸

اسی دن بہت سے چہرے (ایسے بھی ہوں گے جو نور سے) چمک رہے ہوں گے،

ضَاحِكَةٌۭ مُّسْتَبْشِرَةٌۭ ۝۳۹

(وہ) مسکراتے ہنستے (اور) خوشیاں مناتے ہوں گے،

وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۭ ۝٤۰

اور بہت سے چہرے ایسے ہوں گے جن پر اس دن گرد پڑی ہوگی،

تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ۝٤١

(مزید) ان (چہروں) پر سیاہی چھائی ہوگی،

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ ۝٤٢

یہی لوگ کافر (اور) فاجر (بدکردار) ہوں گے،