< السورة السابقة | فهرس السور | السورة التالية >



حدد حجم خط الآيات
()


بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا ۝١

ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں

وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًۭا ۝٢

اور ان کی جو آسانی سے کھول دیتے ہیں

وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًۭا ۝۳

اور ان کی جو تیرتے پھرتے ہیں

فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًۭا ۝٤

پھر لپک کر آگے بڑھتے ہیں

فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا ۝٥

پھر (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتے ہیں

يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ۝٦

(کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین کو بھونچال آئے گا

تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ۝۷

پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا

قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ ۝۸

اس دن (لوگوں) کے دل خائف ہو رہے ہوں گے

أَبْصَٰرُهَا خَٰشِعَةٌۭ ۝۹

اور آنکھیں جھکی ہوئی

يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ ۝١۰

(کافر) کہتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھر لوٹ جائیں گے

أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا نَّخِرَةًۭ ۝١١

بھلا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو جائیں گے (تو پھر زندہ کئے جائیں گے)

قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ ۝١٢

کہتے ہیں کہ یہ لوٹنا تو (موجب) زیاں ہے

فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ ۝١۳

وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہوگی

فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ۝١٤

اس وقت وہ (سب) میدان (حشر) میں آ جمع ہوں گے

هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ۝١٥

بھلا تم کو موسیٰ کی حکایت پہنچی ہے

إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ۝١٦

جب اُن کے پروردگار نے ان کو پاک میدان (یعنی) طویٰ میں پکارا

ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ۝١۷

(اور حکم دیا) کہ فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے

فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ۝١۸

اور (اس سے) کہو کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہو جائے؟

وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ۝١۹

اور میں تجھے تیرے پروردگار کا رستہ بتاؤں تاکہ تجھ کو خوف (پیدا) ہو

فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ۝٢۰

غرض انہوں نے اس کو بڑی نشانی دکھائی

فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ۝٢١

مگر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ۝٢٢

پھر لوٹ گیا اور تدبیریں کرنے لگا

فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ۝٢۳

اور (لوگوں کو) اکٹھا کیا اور پکارا

فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ۝٢٤

کہنے لگا کہ تمہارا سب سے بڑا مالک میں ہوں

فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ۝٢٥

تو خدا نے اس کو دنیا اور آخرت (دونوں) کے عذاب میں پکڑ لیا

إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ۝٢٦

جو شخص (خدا سے) ڈر رکھتا ہے اس کے لیے اس (قصے) میں عبرت ہے

ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ۝٢۷

بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا؟ اسی نے اس کو بنایا

رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ۝٢۸

اس کی چھت کو اونچا کیا اور پھر اسے برابر کر دیا

وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ۝٢۹

اور اسی نے رات کو تاریک بنایا اور (دن کو) دھوپ نکالی

وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ۝۳۰

اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا

أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ۝۳١

اسی نے اس میں سے اس کا پانی نکالا اور چارا اگایا

وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ۝۳٢

اور اس پر پہاڑوں کابوجھ رکھ دیا

مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ۝۳۳

یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے فائدے کے لیے (کیا)

فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ۝۳٤

تو جب بڑی آفت آئے گی

يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ۝۳٥

اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا

وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ۝۳٦

اور دوزخ دیکھنے والے کے سامنے نکال کر رکھ دی جائے گی

فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ۝۳۷

تو جس نے سرکشی کی

وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ۝۳۸

اور دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھا

فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ۝۳۹

اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ۝٤۰

اور جو اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا اور جی کو خواہشوں سے روکتا رہا

فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ۝٤١

اس کا ٹھکانہ بہشت ہے

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۝٤٢

(اے پیغمبر، لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟

فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ۝٤۳

سو تم اس کے ذکر سے کس فکر میں ہو

إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ۝٤٤

اس کا منتہا (یعنی واقع ہونے کا وقت) تمہارے پروردگار ہی کو (معلوم ہے)

إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ۝٤٥

جو شخص اس سے ڈر رکھتا ہے تم تو اسی کو ڈر سنانے والے ہو

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ۝٤٦

جب وہ اس کو دیکھیں گے (تو ایسا خیال کریں گے) کہ گویا (دنیا میں صرف) ایک شام یا صبح رہے تھے